Posts

Showing posts from September, 2025

زندگی کے آخری لمحات اور انسان کے آخری الفاظ — ایک جذباتی جائزہ

Image
  زندگی کا سفر ایک نہ ایک دن اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کے ہر قدم کے ساتھ چلتی ہے لیکن پھر بھی ہم اکثر اس پر گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم، جو لوگ اپنی زندگی کے آخری لمحوں کے قریب ہوتے ہیں، ان کے الفاظ اور ان کی کیفیت ہمیں زندگی کے بارے میں ایک گہرا پیغام دیتی ہے۔ ڈاکٹروں اور نرسز کے مطابق، مریض اپنے آخری لمحات میں جو کچھ کہتے ہیں وہ اُن کے احساسات، یادوں، رشتوں اور خوابوں کی عکاسی کرتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ موت کے قریب پہنچنے والے افراد عام طور پر کون سے الفاظ ادا کرتے ہیں اور ان کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ محبت کا اظہار – سب سے زیادہ عام الفاظ موت کے قریب جانے والے افراد اکثر اپنی محبت کا اظہار سب سے پہلے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جو زندگی کے ہر مرحلے میں اہم رہتا ہے، اور آخری وقت میں یہ اور بھی زیادہ گہرا ہوجاتا ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں: “میں تم سے محبت کرتا ہوں” “میری فیملی کو میرا پیار دینا” “میری ماں کہاں ہے؟” یا “میرے والد کہاں ہیں؟” یہ الفاظ اس بات کا اظہار ہیں کہ زندگی کے آخر میں سب ...

ماہرین کے مطابق کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ورزش کا صحیح وقت

Image
  کینسر دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ چونکہ کئی عوامل جیسے جینیات (genetics) یا عمر ہماری مرضی کے اختیار میں نہیں ہوتے، اس لیے طبی ماہرین زیادہ تر اُن عادات پر زور دیتے ہیں جنہیں ہم بدل سکتے ہیں، مثلاً صحت مند خوراک، تمباکو نوشی سے پرہیز، وزن کا قابو، شراب نوشی سے اجتناب اور سب سے بڑھ کر جسمانی سرگرمی یعنی ورزش ۔ گزشتہ چند دہائیوں میں سینکڑوں تحقیقی مطالعات نے ثابت کیا ہے کہ باقاعدہ ورزش کینسر کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کتنی ورزش کافی ہے؟ کیا ہمیں روزانہ گھنٹوں پسینہ بہانے کی ضرورت ہے یا چند منٹ کی جسمانی سرگرمی بھی فائدہ دے سکتی ہے؟ اس مضمون میں ہم حالیہ تحقیقی نتائج اور عالمی اداروں کی سفارشات کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کریں گے۔ عالمی اداروں کی بنیادی سفارشات دنیا کے بڑے طبی ادارے تقریباً ایک جیسی ہدایات دیتے ہیں: امریکی نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ (NCI) کے مطابق ہفتے میں کم از کم 150 سے 300 منٹ درمیانی شدت کی ورزش (Moderate-Intensity Exercise) یا 75 سے 150 منٹ تیز شدت کی ورزش (Vigorous Exercise) کرنی چاہیے۔ ام...

کچن ٹولز سے کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کے اخراج کا انکشاف - ایف ڈی اے کی ہنگامی وارننگ

Image
ایف ڈی اے کی ہنگامی وارننگ: کچن ٹولز سے کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز کے اخراج کا انکشاف صحت مند زندگی گزارنے کے لیے خوراک کا معیار سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ تازہ سبزیاں، پھل اور صاف ستھری خوراک استعمال کریں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے کچن میں موجود کچھ عام برتن اور ٹولز خاموشی سے آپ کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟ حال ہی میں امریکی ادارہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے ایک ہنگامی وارننگ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والے کچھ کچن ٹولز میں موجود کیمیکلز خوراک میں شامل ہو کر انسانی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کیمیکلز کو کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں سے جوڑا گیا ہے۔ خطرہ کہاں سے شروع ہوتا ہے؟ عام طور پر کچن میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے چمچ، نان اسٹک برتن، کاٹنے کے بورڈز، فوڈ اسٹوریج کنٹینرز، بیکنگ پیپر اور سلیکون کے اوزار میں کچھ ایسے مادے استعمال ہوتے ہیں جو گرمی یا دباؤ کی صورت میں خوراک میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر PFAS (Per- and Polyfluoroalkyl Substances) ، BPA (Bisphenol A) ا...

سائنسی غلط فہمی: کیا کچھ رویے انسان کو اندھا یا پست قد بنا دیتے ہیں؟

Image
  انسانی تاریخ میں صحت اور جسم کے حوالے سے بے شمار کہانیاں، عقیدے اور غلط فہمیاں جنم لیتی رہی ہیں۔ کئی نسلوں سے والدین اپنے بچوں کو ڈراتے آئے ہیں کہ فلاں حرکت نہ کرو ورنہ آنکھوں کی بینائی کم ہو جائے گی، یا یہ کام نہ کرو ورنہ قد چھوٹا رہ جائے گا۔ ان باتوں میں کچھ جزوی حقیقت ہوتی ہے لیکن زیادہ تر محض ڈراوے اور بغیر سائنسی ثبوت کے باتیں ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان چند مشہور غلط فہمیوں کا جائزہ لیں گے، جنہیں آج بھی معاشرے میں دہرایا جاتا ہے، اور دیکھیں گے کہ سائنسی تحقیق ان کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ 1. اندھیرے میں پڑھنا یا ٹی وی دیکھنا آنکھوں کو خراب کر دیتا ہے بچپن میں اکثر ہم نے سنا ہوگا: "اندھیرے میں کتاب مت پڑھو، ورنہ آنکھوں کی روشنی کم ہو جائے گی۔" سائنسی اعتبار سے یہ بات مکمل درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کم روشنی میں پڑھنے سے آنکھیں وقتی طور پر زیادہ تھک جاتی ہیں، آنکھوں میں خشکی یا درد ہو سکتا ہے، لیکن اس سے مستقل نابینا پن یا مستقل کمزوری نہیں ہوتی۔ آنکھوں کی روشنی کم ہونے کی بنیادی وجوہات عموماً جینیاتی عوامل، بڑھتی عمر، یا کچھ مخصوص بیماریاں (جیسے موتیا یا گلوکوما) ہوتی ہیں۔ 2...

دنیا کی نایاب ترین الرجیز: ایک حیرت انگیز حقیقت

Image
  الرجی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسانی جسم کا مدافعتی نظام (immune system) کسی بے ضرر چیز کو خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ عام طور پر ہمیں دھول، پولن، دودھ، مونگ پھلی یا سمندری غذا سے ہونے والی الرجیز کے بارے میں سننے کو ملتا ہے، لیکن دنیا میں کچھ ایسی بھی الرجیز موجود ہیں جو اتنی نایاب ہیں کہ ان کے بارے میں سن کر یقین کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ یہ الرجیز نہ صرف انسانی صحت پر اثر ڈالتی ہیں بلکہ مریض کی روزمرہ زندگی کو بھی انتہائی مشکل بنا دیتی ہیں۔ اس مضمون میں ہم دنیا کی چند نایاب ترین الرجیز پر روشنی ڈالیں گے اور جانیں گے کہ یہ کس طرح انسان کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ 1. پانی سے الرجی (Aquagenic Urticaria) یہ شاید سب سے حیرت انگیز اور نایاب الرجی ہے۔ دنیا بھر میں اس کے صرف چند ہی کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس الرجی میں پانی کے ساتھ جلد کا رابطہ ہوتے ہی مریض کو شدید خارش، سرخی اور چھالے پڑنے لگتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف پینے کے پانی تک محدود نہیں بلکہ بارش کے قطرے، پسینہ یا حتیٰ کہ آنسو بھی اس ردعمل کو پیدا کر سکتے ہیں۔ ایسے مریضوں کے لیے نہانا یا بارش میں بھیگنا ایک ...

براؤن چاول میں پایا جانے والا کیمیکل — کینسر اور آٹزم کے ساتھ ممکنہ تعلق

Image
  حالیہ تحقیق اور رپورٹس نے خبردار کیا ہے کہ براؤن (بھورا) چاول میں سفید چاول کے مقابلے میں کچھ زہریلے مادّے، خاص  طور پر غیر نامیاتی آرسینک (inorganic arsenic)، زیادہ مقدار میں موجود ہو سکتے ہیں۔ آرسینک ایک قدرتی دھاتی عنصر ہے جو مٹی، آبی ذخائر اور کچھ زرعی طریقوں کے نتیجے میں اناج میں جمع ہو جاتا ہے، اور جب یہ انسانی خوراک میں داخلی سطح پر آتا ہے تو طویل مدت میں صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔  براؤن چاول میں آرسینک کیوں زیادہ ہوتا ہے؟ چاول کے دانے کا بیرونی پرت (bran) آرسینک کو جمع کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔ چونکہ براؤن چاول میں یہ پرت برقرار رہتی ہے، اس لیے آرسینک کی مجموعی مقدار سفید چاول کے مقابلے میں زیادہ رہتی ہے۔ محققین نے رپورٹ کیا ہے کہ بعض مطالعات میں براؤن چاول میں کل آرسینک کی مقدار 24% جبکہ غیر نامیاتی (زیادہ خطرناک) آرسینک میں تقریباً 40% تک اضافہ دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں اور حاملہ خواتین کی خوراک کے حوالے سے خصوصی احتیاط تجویز کی جاتی ہے۔  آرسینک صحت کے لیے کس طرح خطرناک ہے؟ غیر نامیاتی آرسینک کو عالمی ادارۂ صحت اور دیگر ماہرین نے ک...

کیا لال گوشتRED Meat ٹائپ 2 ذیابیطس کا باعث بن سکتا ہے؟

Image
  انسانی صحت اور خوراک کے تعلق پر صدیوں سے بحث جاری ہے۔ ہر دور میں یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کون سی غذائیں فائدہ مند ہیں اور کون سی مضر۔ حالیہ دہائیوں میں لال گوشت، خاص طور پر گائے، بکرے اور بھیڑ کے گوشت کے حوالے سے کئی تحقیقات سامنے آئی ہیں جن میں اس کے ذیابیطس سمیت دیگر بیماریوں سے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کیا ہے؟ ٹائپ 2 ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جس میں جسم انسولین (Insulin) کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کے نتیجے میں خون میں شکر (Glucose) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ بیماری عام طور پر موٹاپے، غیر متوازن خوراک، ورزش کی کمی اور موروثی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ لال گوشت اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کئی بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس کے مطابق زیادہ مقدار میں لال گوشت کھانے سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں: 1. سیر شدہ چکنائی (Saturated Fat) لال گوشت میں سیر شدہ چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ چکنائی جسم میں انسولین کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور موٹاپے کو بڑھاتی ہے، جو ذیابیطس کا ایک بڑا سبب ہے۔ ...

ایسی نیند کی حالت جو جان لے سکتی ہے — آپ کو کیا معلوم ہونا چاہیے

Image
  اس مضمون میں ہم اُن دو اہم حالتوں پر بات کریں گے جو براہِ راست یا بلاواسطہ طور پر موت کے خطرے سے منسلک ہیں یعنی خاندانی قاتل بے خوابی، اور  یعنی سانس رکنے والا سنڈروم۔ دونوں بہت مختلف نوعیت کی بیماریاں ہیں: ایک نایاب مگر براہِ راست قاتل، دوسری عام مگر علاج نہ ہونے پر زندگی خطرے میں ڈال دینے والی۔  خاندانی قاتل بے خوابی (Fatal Familial Insomnia — FFI) کیا ہے؟ FFI ایک انتہائی نایاب جینیاتی عارضہ ہے جو پرائیون (prion) پروٹین میں ہونے والی تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس میں مریضوں کو بتدریج شدت پکڑتی بے خوابی، یادداشت اور سوچ کے مسائل، خود کار اعصابی نظام (autonomic) میں بگڑاؤ، اور آخر کار ذہنی و جسمانی زوال محسوس ہوتا ہے۔ یہ بیماری عام طور پر درمیانی عمر میں شروع ہوتی ہے اور آغاز کے بعد چند ماہ تا چند سال میں موت واقع ہو سکتی ہے — بدقسمتی سے اس کا کوئی شفا بخش علاج موجود نہیں۔  NCBI +1 علامات (FFI کے عام اشارے) مسلسل اور بڑھتی ہوئی بے خوابی شدید اضطراب، خوف یا ہالوسینیشنز (خیالی منظر) پسینہ آنا، دل کی دھڑکن یا بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ (autonomic علامات) وزن میں کمی، یا...